بھٹکل 14/جون (ایس او نیوز) جدید قسم کا انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو)، ایمرجنسی علاج کا شعبہ،مریضوں کے لئے عمدہ ’اسپیشل رومس‘ کی سہولت کے ساتھ بھٹکل کے سرکاری اسپتال کو ایک نیا روپ دیا گیا ہے۔لیکن یہاں اگر کوئی چیز نہیں بدلی ہے تو یہاں پر خالی پڑی ہوئی اسامیوں کی بھرتی کا مسئلہ ہے۔
اسپتال کی جدید سہولتوں سے مریضوں کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچنا ہے تو پھر یہاں پر خدمات دینے والے عملے کی جو کمی ہے اسے دور کرنا ضروری ہے۔ فی الحال اسپتال کی ایڈمنسٹریٹیو میڈیکل آفیسرڈاکٹر سویتا کامتھ ؛ یہاں پر جتنا اسٹاف موجودہے ان کے ساتھ بقیہ شعبوں میں خالی جگہوں پر بیرونی ٹھیکے پر کچھ اسامیوں کو متعین کرکے ان سے کام چلارہی ہیں۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اگر مناسب اور ضروری تعداد میں اسٹاف کا تقرر ہوتا ہے تو سرکاری اسپتالوں میں نجی اسپتالوں جیسی خدمات مریضوں کو یقینی طور پر فراہم کی جاسکتی ہیں۔حکومت کا یہ ایک اہم ترین منصوبہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں تمام مریضوں کو بہترین علاج و معالجے کی سہولت فراہم کی جائے۔بھٹکل سرکاری اسپتال میں اس پالیسی پر عمل کرنا چاہیں بھی تو یہ ممکن نہیں ہے اس لئے کہ اگرحکومت کی طرف سے اسپتال کے لئے درکار عملہ کا ہی تقرر نہیں کیا جائے گا تو پھر منصوبے کے تحت مریضوں کو مکمل خدمات کیسے فراہم کی جاسکیں گی۔
بھٹکل سرکاری اسپتال کی حالت یہ ہے کہ یہاں 86عہدوں کومنظوری ملی ہوئی ہے، مگر ان میں سے 62 اسامیاں ابھی تک خالی پڑی ہوئی ہیں۔ ایسی صورت میں موجودہ اسٹاف کس حد تک اور کتنی خدمات انجام دے سکے گا؟ عملے سے متعلق کوئی بھی فرد ہمیشہ 24گھنٹے خدمات انجام دینے کے قابل نہیں رہ سکتا۔ گروپ ڈی کے ملازمین کی غیر موجودگی میں وارڈ بوائے، آیا، سویپر، اٹینڈرکی ذمہ داریاں کون انجام دے گا؟
بھٹکل سرکاری اسپتال کا درجہ جس دن سے بڑھایا گیا ہے تب سے ایک چیف میڈیکل آفیسر کا عہدہ خالی پڑا ہے۔اس عہدے پر فائز ہونے والے کا رتبہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے برابر ہوتا ہے، اور پورے اسپتال کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری چیف میڈیکل آفیسر کے سر پر ہوتی ہے۔سینئر میڈیکل آفیسر کی دو اسامیاں بھی خالی پڑی ہیں۔بچوں کے ماہر، امراض جِلد کے ماہر، سرجن، دانتوں کے ماہر ڈاکٹروں کے علاوہ معاون ایکزیکٹیو آفیسر، نرسنگ سپرنٹنڈنٹ، درجہ اول اور دوم کے معاونین، اسٹاف نرسس، سینئر اور جونیئر فارماسسٹ،جونیر لیاب ٹیکنی شیئن،ایکسرے ٹیکنی شیئن،اٹینڈرس، وارڈ بوائز جیسے عہدے خالی ہیں۔جس کی وجہ سے سرکاری اسپتال میں سہولتیں ہونے کے باوجود مریضوں کو پوری طرح فائدہ پہنچانا ممکن نہیں ہورہا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ عوام سرکاری اسپتال کے نام سے ہی خوف کھاتے تھے، لیکن موجود ہ حالات میں لوگ مانتے ہیں کہ سرکاری اسپتال کسی نجی اسپتال سے کم نہیں ہے۔بڑے اورکشادہ وارڈس، عطیہ دہندگان کی جانب سے تعمیر کیے گئے خصوصی کمرے،اسپیشل واڈس، جدید سہولتوں والا ایمرجنسی علاج کا شعبہ، خدمات فراہم کرنے کا جذبہ رکھنے والے ڈاکٹرس وغیرہ کی موجودگی مریضوں کوسرکاری اسپتال کی طرف راغب کرنے کا سبب بن گئی ہے۔ اب اگر خالی پڑی ہوئی اسامیوں کو پُر کیا جاتا ہے تو اس سے عوام کو بہت ہی زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
ایڈمنسٹریٹیو میڈیکل آفیسر کے طورپر ڈاکٹر سویتا کامتھ نے جب سے چارج سنبھالا ہے، انہوں نے اسپتال میں ترقی اور جدید کاری کے کئی اقدامات کیے ہیں۔جس میں مریضوں کے استفادے کے لئے آئی سی یو، مرد اور خواتین کے لئے الگ الگ کمروں کا انتظام، ایمرجنسی علاج کی الگ سے سہولت کے علاوہ حادثات ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد پہنچانے کا انتظام وغیر ہ ان کے اقدامات میں شامل ہے۔اس سے اسپتال میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
بھٹکل سرکاری اسپتال کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ ہر سال برسات کے موسم میں اس کی چھت ٹپکتی تھی۔ امسال مسرس انفوسس کے تعاون سے لاکھوں روپے کے خرچ پر اسپتال کے چھت پر نئے شیٹس ڈالنے کا کام کیا جارہا ہے۔مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بھٹکل کے عوام حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اس اسپتال میں جتنی اسامیوں کا تقرر التواء میں پڑا ہوا ہے، اس میں نصف تعداد کے برابر بھی اگر تقرر کیاجاتا ہے تو یہاں کے عوام کے لئے بہت ہی فائدہ مند ہوگا۔